Karkare ke Qatil kaun? کرکرے کے قاتل کون Hindustan mein dahshatgardi ka asl chehra

 

ہندوستان میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے ذریعہ سیاسی تشدد اور دہشت گردی کی تاریخ طویل ہے۔ 1990 کی دہائی کے وسط میں ہندتوا کے عروج کے ساتھ مسلمانوں پر ’’دہشت گردی‘‘ میں ملوّث ہونے کے الزام میں شدّت آگئی اور مرکز میں اقتدار پر بی جے پی کے قبضہ کے بعد یہ الزام سرکاری نظریہ بن گیا، یہاں تک کہ ’’سیکولر‘‘ میڈیا بھی سیکیورٹی ایجنسیوں کے اسٹونوگرافر کی طرح ان کی کہانیوں کو من وعن دہرانے لگا۔ چنانچہ مسلمانوں کے ’’دہشت گرد‘‘ قرار دئے جانے کامفروضہ اس حد تک مسلمہ نظریہ بن گیا کہ بعض مسلمان بھی اس جھوٹے پروپگنڈے کو سچ سمجھنے لگے۔ ممتاز ریٹائرڈ سینئر پولس افسر ایس ۔ام۔مشرف نے ، جن کو تیلگی اسٹامپ گھوٹالے جیسے سنگین جرم کا پردہ فاش کرنے کا امتیاز حاصل ہے، پولیس ملازمت کے اپنے طویل تجربے اور عوام کی دسترس تک پہنچنے والے مواد کو استعمال کرکے اس جھوٹے پروپگنڈے کے پردے کے پیچھے کا منظر نامہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کچھ انتہائی چونکا دینے والے حقائق بیان کئے ہیں اور ان کے تجزیہ نے نام نہاد ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کے پیچھے چھپے اصل چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔ یہ چہرہ ان مکروہ طاقتوںکا ہے جنہوں نے مہاراشٹر پولیس کے انسداد دہشت گردی دستے کے سربراہ ہیمنت کرکر ے کو قتل کیا۔شہید کرکرے نے جواں مردی اور حق پرستی کا مظاہرے کرتے ہوئے اصل دہشت گردوں کو بے نقاب کیا تھا اور اس کی قیمت اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے ادا کی۔ کتاب میں دہشت گردی کے چند بڑے واقعات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیاہے جن کو ’’ اسلامی دہشت گردی‘‘ سے منسوب کیا گیاہے اور اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کیا ہے۔

250.00
Quick View
Add to cart

Manipuri Muslims: Historical Perspectives 615-2000 CE

Manipur’s little-known Muslim communities have a long and rich history, dating from the time of Prophet Muhammad (Peace be upon him). In this exhaustive historical account, Farooque Ahmed traces the arrival of Islam in the region in 615 CE through the Prophet’s companion S’ad ibn abi Waqqas, an uncle of the Prophet, who also was instrumental in spreading Islam in China. Around the same time, an Arab Muslim family settled in the Manipur region and over the centuries Muslim traders, settlers and preachers helped the nascent community expand, flourish and thrive. These waves of migrations and local conversions coalesced into a unique identity of ‘Pangal Musalman’ reflecting the egalitarian and congregational ideals of Islam.

200.00
Quick View
Add to cart

The Stalwarts: Builders and leaders of Mushawarat

The All India Muslim Majlis-e Mushawarat, or Mushawarat for short, emerged half a century ago in very difficult times when communal riots had engulfed many parts of north India and some Muslims had started even leaving the country in despair. In those difficult times, some selfless leaders of the community from all over the country came together, discussed and formed a common platform for all Muslims, to think, guide and interact with the forces in society. This book sheds lights on the extraordinary lives of those stalwarts and their followers who kept the flames burning and still manage to keep that common platform intact and strong giving voice to the community nationally and internationally.

180.00
Quick View
Add to cart

Types of contemporary Muslims: Lax, extremist and moderate

Three types of Muslims exist in the world today: lax, extremist and moderate. The first, the lax variety, forms the

60.00
Quick View
Add to cart

Watan mein ghair وطن میں غیر : Hindustani Musalmaan (Urdu)

پانچ دہائیوں کے اپنے صحافتی کیریر کے دوران انہوں نے نہ صرف پورے ہندوستان بلکہ دنیا کے سو دیگر ملکوں کا دورہ کیا۔ زیر نظر کتاب سعید نقوی کی ۲۰۱۶ ء میں شائع ہونے والی انگریزی کتاب Being the Other کا ترجمہ ہے جو ساری دنیا میں معروف ہوئی۔ یہ ان کی ذاتی سرگزشت بھی ہے اور ان کے عہد کے اہم ترین حوادث اور سیا سی تغیرات کی تاریخ بھی۔

300.00
Quick View
Add to cart

Watan mein paraya वतन में पराया: Hindustan ka Musalmaan (Hindi)

प्रस्तुत पुस्तक उनकी 2016 में प्रकाशित होने वाली अंग्रेज़ी पुस्तक Being the Other: The Muslim in India का अनुवाद है, जो संसार भर में प्रसिद्ध हुई। यह उनकी आत्मकथा भी है और उनके दौर की अतिमहत्वपूर्ण घटनाओं और राजनैतिक उथल-पुथल का इतिहास भी।

300.00
Quick View
Add to cart

Who Killed Karkare? The Real Face of Terrorism in India

Political violence, or terrorism, by State as well as by non- State actors has a long history in India. The allegation that sections of and individual Indian Muslims indulged in “terrorism” surfaced for the first time with the ascent of the Hindutva forces in mid-1990s and became state policy with the BJP’s coming to power at the Centre. With even “secular” media joining the role as stenographers of security agencies, this became an accepted fact so much so that common Indians and even many Muslims started believing in this false propaganda. This book, by a former senior police officer, with a distinguished career that included unearthing the Telgi scam, peeps behind the propaganda screen, using material mostly in the public domain as well as his long police experience. It comes out with some startling facts and analysis, the first of its kind, to expose the real actors behind the so-called “Islamic terrorism” in India whose greatest feat was to murder the Maharashtra ATS chief Hemant Karkare who dared to expose these forces and paid with his life for his courage and commitment to truth. While unearthing the conspiracy behind the murder of Karkare, this book takes a hard look at some of the major incidents attributed to “Islamic terrorism” in India and finds them baseless.

350.00
Quick View
Add to cart

بھگوا دہشت گردی اور مسلمان Bhagva dahshatgardi aur Musalmaan

اس کتاب میں بھگوادہشت گردی کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے لازمی نتائج پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کس طرح بھگوا دہشت گرد کمال عیاری سے اپنے کرتوتوں کا الزام مسلمانوں کے سرتھوپنے میں کامیاب رہے ہیں نیز کس طرح اس معاملے میں مسلمانوں کے خلاف وہ منافرت معاون ہوئی ہے جسے سنگھ پریوار برسہا برس سے فروغ دینے میں مصروف ہے۔اس کتاب میں ان سیاسی پارٹیوں کی منافقانہ روش کا بھی تذکرہ ہے جو ”سیکولر“ کہلاتی ہیں مگردانستہ یاغیردانستہ طور پر بھگوادہشت گردوں کی آلہ ¿ کار بنی ہوئی ہیں۔اس روش سے حکومتیں،انتظامیہ اور تفتیشی ایجنسیاں شدید متاثر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں میں یہ سوچ عام ہے کہ جو بھی دہشت گردانہ وارداتیں وقوع پذیر ہوتی ہیں ان میں مسلمان ہی ملوث ہونگے۔اسی سوچ کو سنگھ پریوار فروغ دینا چاہتا ہے۔

500.00
Quick View
Read more

مسلم مجلس مشاورت: ایک مختصر تاریخ (Urdu)

کتاب پچاس سال قبل اگست 1964ء میں معرض وجود میں آنے والی ملت کی وفاقی انجمن مسلم مجلس مشاورت کی جد و جہد پر مبنی بیانیہ ہے۔قارئین اس کے ذریعے اس تاریخی تنظیم کی غرض وغایت کو سمجھ سکیں گے ، اس کے مقاصدکو جان سکیں گے اور اس کے وجود کے عوامل سے کسی حد تک انہیں واقفیت مل سکے گی۔ تنظیم نے کیا کارنامے انجام دئے ؟ اس سے کہاں کوتاہیاں ہوئیں ۔ اس نے مسلمانوں اور ہندوستان پر کیا اثرات مرتب کئے ۔ کن لوگوں نے کس طرح اس کا استقبال کیا اور اس سے کیا توقعات قائم کیں ۔ کس طرح یہ تنظیم بھی مسلمانوں کے دیگر اجتماعی کاموں کی طرح انتشار اور اختلاف کا شکار ہوئی۔ اور پھر کس طرح دوبارہ متحد ہوئی ۔ان سب سوالات کا جواب اس کتاب میں ملتا ہے ۔ مسلم مجلس مشاورت نے ہندوستان میں اقلیتوں اور خصوصاًمسلمانوں کی بقاوحیات اور ان کے تحفظ کے لئے جو لڑائی لڑی ہے وہ لا زوال ہی نہیں ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے نشانِ راہ بھی ہے کہ جب امیدیں دم توڑتی نظر آئیں،تدابیراور حکمتیں بے اثر ہوجائیں،تب بھی اجتماعی شعور اور عزیمت سے حالات کارُخ تبدیل کیا جا سکتاہے ۔

200.00
Quick View
Add to cart

भारत-विभाजन विरोधी मुसलमान (Hindi) Bharat-Vibhajan Virodhi Musalmaan

डॉ॰ शम्सुल इस्लाम ने भारतीय स्वतंत्रता संग्राम के इतिहास में सबसे अधिक उपेक्षित किये गए अध्याय पर क़लम उठाया है,

300.00
Quick View
Add to cart