Savarkar Unmasked

Quote by Khushwant Singh: [Savarkar] in his presidential speech at the Mahasabha conference in Ahmedabad in 1937, said: ‘As it is, there are two antagonistic nations living side by side in India’…The Hindu Mahasabha had no problem in joining the Muslim League Government in Sind and Bengal. He was also the supporter of the princely order and thought it would not be a bad idea if the King of Nepal became the Hindu emperor of India…If you want to recheck what I have written, take a look at Shamsul Islam’s book on Savarkar. —Khushwant Singh

295.00
Quick View
Add to cart

Syed Shahabuddin: Outstanding Voice of Muslim India

Compiled by Mushtaque Madni
Published by P.A. Inamdar

(112pp+8 color photo pages, Large format/HB)
Year: 2013

The book has a forward by Hon’ble M. Hamid Ansari and contains write-ups on Syed Shahabuddin by eminent personalities.

Contents:

Foreword
A ‘Ghazi’ of Social Crusade
A Lustrous Gem
The Redoubtable Fighter
A Man of Honour and Integrity
Cornucopia of the Choicest Attributes
Shahab Bhai
A Close Associate’s Perspective
Man, to be Evaluated by the Posterity
Impressions about the Personality of Syed Shahabuddin
A Crusader with a Missionary Zeal
Man with Reason, Mission and Vision
Indeed Different than Others
A Friend Whom I Often Opposed
The Fearless and Uncompromising
A Proud Patriot
Syed Shahabuddin in North America
Selflessness, Thy Name is Syed Shahabuddin
My Boon Companion
A Great Man with Full of Might Have Beens
An Uncompromising Advocate of Muslim Reservation
A Misconstrued Giant
An Introduction to the Political Ideas of Syed Shahabuddin
An Exclusive Interview with Syed Shahabuddin

Media Coverage/Reviews:

Luminaries laud life and works of iconic Syed Shahabuddin
http://muslimmirror.com/eng/luminaries-laud-life-and-works-of-iconic-syed-shahabuddin/

An Intellectual Debate in Delhi and Washington over Syed Shahabuddin
http://muslimmirror.com/eng/an-intellectual-debate-in-delhi-and-washington-over-syed-shahabuddin/

 

400.00
Quick View
Read more

Taqseem-e-Hind Ke Mukhalif Musalmaan (Urdu) تقسیمِ ہند کے مخالف مسلمان

Urdu translation of “Muslims Against Partition of India — Revisiting the legacy of patriotic Muslims”.

ملک کو بچانے کے لئے انگریزوں ،مسلم لیگ،  ہندُتووادیوں اور کانگریس سے لوہا لینے والے محب وطن مسلمانوں کی وراثت کا جائزہ

350.00
Quick View
Add to cart

The Betrayal of India: Revisiting the 26/11 Evidence

“The attacks in Mumbai in November 2008 – designated as 26/11 – left 162 people dead in a traumatic event

695.00
Quick View
Add to cart

The Stalwarts: Builders and leaders of Mushawarat

The All India Muslim Majlis-e Mushawarat, or Mushawarat for short, emerged half a century ago in very difficult times when communal riots had engulfed many parts of north India and some Muslims had started even leaving the country in despair. In those difficult times, some selfless leaders of the community from all over the country came together, discussed and formed a common platform for all Muslims, to think, guide and interact with the forces in society. This book sheds lights on the extraordinary lives of those stalwarts and their followers who kept the flames burning and still manage to keep that common platform intact and strong giving voice to the community nationally and internationally.

180.00
Quick View
Add to cart

Watan mein ghair وطن میں غیر : Hindustani Musalmaan (Urdu)

پانچ دہائیوں کے اپنے صحافتی کیریر کے دوران انہوں نے نہ صرف پورے ہندوستان بلکہ دنیا کے سو دیگر ملکوں کا دورہ کیا۔ زیر نظر کتاب سعید نقوی کی ۲۰۱۶ ء میں شائع ہونے والی انگریزی کتاب Being the Other کا ترجمہ ہے جو ساری دنیا میں معروف ہوئی۔ یہ ان کی ذاتی سرگزشت بھی ہے اور ان کے عہد کے اہم ترین حوادث اور سیا سی تغیرات کی تاریخ بھی۔

300.00
Quick View
Add to cart

Watan mein paraya वतन में पराया: Hindustan ka Musalmaan (Hindi)

प्रस्तुत पुस्तक उनकी 2016 में प्रकाशित होने वाली अंग्रेज़ी पुस्तक Being the Other: The Muslim in India का अनुवाद है, जो संसार भर में प्रसिद्ध हुई। यह उनकी आत्मकथा भी है और उनके दौर की अतिमहत्वपूर्ण घटनाओं और राजनैतिक उथल-पुथल का इतिहास भी।

300.00
Quick View
Add to cart

Widows and Half Widows: Saga of extra-judicial arrests and killings in Kashmir

This book is about women who even after years of the disappearance of their husbands, sons and fathers are still on a daily search for their loved ones while trying to discover their own identity — are they widows or not widows. Apart from economic hardships, they have been alienated by family, society and government. Documenting their mental agony and trauma was never an easy task. This book compiles their tragedies in order to give a voice to the voiceless. Courts have failed them, successive governments have brushed aside their suffering, society has adopted an indifferent attitude and there are those who earn out of the indigence of these women.

220.00
Quick View
Read more

آپریشن اکشردھام— اکشر دھام مندر پر دہشت گردانہ حملہ Operation Akshardham (Urdu)

دنیا بھر میں ہونے والے تشدد کے بڑے واقعات میں زیادہ تر ایسے ہیں جن پر ریاستی مشینری کے تخلیق کردہ ہونے کا شبہہ گہرا ہوگیا ہے۔ راز کھلنے لگے ہیں۔ ریاستی نظام پر قابض گروہ اپنے فطری انجام کو مصنوعی واقعات سے ٹالنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اکثر ایسے واقعات کے ذریعہ سماج میں مذہبی پس منظر والے افراد کے درمیان اپنی فوری ضروریات پورا کرنے والا ایک پیغام ارسال کرتا ہے۔ اسکامقصد سماجی زندگی کاتانا بانہ سنوارنا اور انسانیت نہیں ہوتی ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ اقدار و تہذیب کومستحکم کرنے کے مقصد سے زندگی گزارنے والاعام آدمی اور دانشور طبقہ اس طرح کے تمام واقعات کا تحقیقی مطالعہ کرتا ہے اور ایجاد کردہ فریب کی نفی کرنے کےلئے تاریخ کی ضرورتوں کو پوراکرتا ہے۔
بھارت میںتقریباگزشتہ تین دہائیوں کے دوران تشدد کے جو بڑے واقعات پیش آئے ہیں انکے بارے میں رائے عامہ واضح ہے۔محافظ جب قاتل ہوجاتا ہے تو عوامی زندگی بسر کرنےوالا اپنی حفاظت میں لگ جاتا ہے۔اکشر دھام واقعے کی تحقیق بے حد حقیقت پسندانہ اورمدلل انداز میں کی گئی ہے۔ پوری دنیا میں لوگوں کے خلاف چھیڑی گئی یک طرفہ جنگ کے اس باب کی یہ باریکی سے پیش کی گئی تشریح بھی ہے اورجمہوریت اور مساوات پر مبنی نظام حکمرانی کی تلاش کی طویل مدتی ضرورت کی دستاویز بھی۔
دہشت گردانہ واقعات”کیپیبیلیٹی ڈیمانسٹریشن“ اپنے تضادات کے باوجودحکمراں طبقے کے اتفاق رائے اور”فدائین“دستوں کی ایک پیکیجنگ ہے۔یہ عام نظریہ ایک شکل اختیار کررہا ہے اور وہ مستقبل میںاپنے سیاسی راستوں کی تلاش میں لگ چکا ہے۔ پنجاب میں دہشت گردی کی تحقیق نے وہاں ایک نئی طرح کی سیاسی زندگی کو جنم دیا ہے۔ یہ کتاب” مسلم دہشت گردی“ کے عنوان سے ہونے والے تمام واقعات کی ایسی ہی دستاویزی تحقیق کی ضرورت کا ایک دباﺅ بناتی ہے۔
انل چمڑیا
سینئر صحافی

250.00
Quick View
Add to cart

آر۔ایس۔ ایس : ملک کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم (Urdu)

اِس کتابچے کے مصنف ایس۔ ایم۔ مشرف نے نہایت گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرکے انتہائی مختصر مگر جامع الفاظ میں ایک انتہائی خطرناک ، مکّار اور دہشت گرد تنظیم کا اصل چہرہ ملک کے سامنے پیش کیا ہے۔ آر ایس ایس کی اجازت کے بغیر بھارت میں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔اتنی طاقتور اور رسوخ کی حامل یہ تنظیم ملک کے تمام اہم اداروں پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے۔ نتیجتاً ملک کے ہر کاروبار میں اس کی دخل اندازی دن رات جاری رہتی ہے۔ ہمارا ہمہ گیر مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر ملک میں کوئی بھی بڑا لیکن بُرا واقعہ رونما نہیں ہوسکتا۔ ہماری یہ تمام باتیں قارئین کو شاید مبالغہ آمیز لگیں۔ لیکن اس حقیقت کا اعتراف آر ایس ایس والے بھی نجی طور پر کرتے ہیں اور ہم جیسوں کو ان کی راہ کا روڑا نہ بننے کی اعلانیہ اور ڈھکی چھپی دھمکی بھی دیتے ہیں۔ آخر سوال یہ ہے کہ ہم اس تنظیم کی طاقت کا پورا اندازہ ہونے کے باوجود یہ قدم اٹھاکر خودکشی تو نہیں کررہے ہیں؟ لیکن اس وطنِ عزیز کی صدیوں کی تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بہت سے مصلحین کو اسی کٹھن راہ سے گزرنا پڑا ہے۔ دراصل آر ایس ایس کا قیام تو صرف آزادی کی جدوجہد کی مخالفت کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ فی الحال آر ایس ایس اور اس سے قبل آریہ بھٹ برہمن وادیوں نے اکثریتی فرقے کو لوٹنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسا نظام قائم کیا ہے کہ ملک میں انارکی کا یہ دور دورہ ہمیشہ برقرار رہے۔ اسی لیے ہم یہ کتابچہ پوری ذمہ داری کے ساتھ اور جان ہتھیلی پر رکھ کر قارئین کے حوالے کر رہے ہیں۔

80.00
Quick View
Add to cart

بھگوا دہشت گردی اور مسلمان Bhagva dahshatgardi aur Musalmaan

اس کتاب میں بھگوادہشت گردی کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے لازمی نتائج پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کس طرح بھگوا دہشت گرد کمال عیاری سے اپنے کرتوتوں کا الزام مسلمانوں کے سرتھوپنے میں کامیاب رہے ہیں نیز کس طرح اس معاملے میں مسلمانوں کے خلاف وہ منافرت معاون ہوئی ہے جسے سنگھ پریوار برسہا برس سے فروغ دینے میں مصروف ہے۔اس کتاب میں ان سیاسی پارٹیوں کی منافقانہ روش کا بھی تذکرہ ہے جو ”سیکولر“ کہلاتی ہیں مگردانستہ یاغیردانستہ طور پر بھگوادہشت گردوں کی آلہ ¿ کار بنی ہوئی ہیں۔اس روش سے حکومتیں،انتظامیہ اور تفتیشی ایجنسیاں شدید متاثر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں میں یہ سوچ عام ہے کہ جو بھی دہشت گردانہ وارداتیں وقوع پذیر ہوتی ہیں ان میں مسلمان ہی ملوث ہونگے۔اسی سوچ کو سنگھ پریوار فروغ دینا چاہتا ہے۔

500.00
Quick View
Read more

پسِ‌‌ پردہ گجرات Pasey pardah Gujarat (Urdu)

گودھرا ریلوے اسٹیشن کے حادثے کے بعد گجرات کے متعدد علاقوں میں بھڑکنے والے بھیانک فسادات گجرات اور ہندوستان کے چہرے پر بد نما داغ ہیں- ان بھیانک فسادات کا سبب پولیس کا ضوابط و قانون کے مطابق عمل نہ‌کرنا تھا- اس کتاب میں مصنف نے موقعے پر موجود ایک اعلی پولیس افسر کی حیثیت سے فسادات اور بعدمیں انھیں چھپانے اور مجرموں کو بچانے کی منظم سرکاری کوششوں کو طشت ازبام کیا ہے- فسادات کے دوران ان کی رپورٹیں اوربعد میں فسادات کی تحقیق کرنے والے کمیشن کے سامنے ان کےبیانات سیاست دانوں، پولیس اور بیوروکریسی کے گھناؤنےرول کا پردہ فاش کرتے ہیں- سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم ‌(ایس۔آئی۔ ٹی)کے کام کو انہوں نے قریب‌سے دیکھا اور اس رائے تک پہونچے کہ ایس۔آئی۔ ٹی نے مجرموں کو کیفر کردار تک پہونچانے کے بجائےان کےدفاعی وکیل کے طور پرکام کیا- گجرات کے فسادات اور بعد کے حالات کےعینی مشاہد مصنف نے یہ کتاب اپنے ضمیر کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے لکھی ہے ۔

250.00
Quick View
Add to cart

طفلِ برہنہ پا کا عروج Tifl-e Barhanapa ka Urooj – Aap Beeti (Urdu)

”طفل ِبرہنہ پا کا عروج“ ان کی دلچسپ آپ بیتی ہے جو ان کے ۷۲ ؍سال کے تجربات اور یاد داشتوں کا نچوڑ ہے۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ اگر انسان کا عزم راسخ ہو اور وہ جدو جہد کرتا رہے تو شدید ترین مشکلات کے با وجود ترقی کی اعلی ترین منزلیں طے کر سکتا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنی قوم کو ایک خاص پیغام دیا ہے: رجعت پسند کٹر پنتھی گروہوں کا یہ دعویٰ کہ وہ اکثریت کے نمائندے ہیں ایک مغالطہ ہے۔ اکثریت نہ متعصب ہے، نہ غیر روادار، نہ کٹر پنتھی ، نہ منافرت پسند۔ امن و آشتی کا راستہ یہ ہے کہ اکثریت سے ربط و ضبط اور میل ملاپ بڑھایا جائے اور ان کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔

300.00
Quick View
Add to cart

عذاب ہمسائیگی-The Agony Trial (Urdu/English Poetry)

…..Fortunately, such men and women exist and continue to raise their voices against the destructive power of hatred. The latest example is poet Feza Aazmi of Karachi. He is a Mohajir, a refugee from Uttar Pradesh, now a Pakistani. His latest masnavi (epic poem) Azab-e-Humsaigi (The Agony Trail) deals with the ups and downs of Indo-Pak relations…. – Khushwant Singh

120.00
Quick View
Add to cart

گجرات فائلس Gujarat Files (Urdu)

Urdu Edition of Gujarat Files:Anatomy of a Cover Up is a book about the 2002 Gujarat riots authored by journalist Rana Ayyub. The book is dedicated to Shahid Azmi along with advocate and activist Mukul Sinha.

260.00
Quick View
Read more

مسلم مجلس مشاورت: ایک مختصر تاریخ (Urdu)

کتاب پچاس سال قبل اگست 1964ء میں معرض وجود میں آنے والی ملت کی وفاقی انجمن مسلم مجلس مشاورت کی جد و جہد پر مبنی بیانیہ ہے۔قارئین اس کے ذریعے اس تاریخی تنظیم کی غرض وغایت کو سمجھ سکیں گے ، اس کے مقاصدکو جان سکیں گے اور اس کے وجود کے عوامل سے کسی حد تک انہیں واقفیت مل سکے گی۔ تنظیم نے کیا کارنامے انجام دئے ؟ اس سے کہاں کوتاہیاں ہوئیں ۔ اس نے مسلمانوں اور ہندوستان پر کیا اثرات مرتب کئے ۔ کن لوگوں نے کس طرح اس کا استقبال کیا اور اس سے کیا توقعات قائم کیں ۔ کس طرح یہ تنظیم بھی مسلمانوں کے دیگر اجتماعی کاموں کی طرح انتشار اور اختلاف کا شکار ہوئی۔ اور پھر کس طرح دوبارہ متحد ہوئی ۔ان سب سوالات کا جواب اس کتاب میں ملتا ہے ۔ مسلم مجلس مشاورت نے ہندوستان میں اقلیتوں اور خصوصاًمسلمانوں کی بقاوحیات اور ان کے تحفظ کے لئے جو لڑائی لڑی ہے وہ لا زوال ہی نہیں ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے نشانِ راہ بھی ہے کہ جب امیدیں دم توڑتی نظر آئیں،تدابیراور حکمتیں بے اثر ہوجائیں،تب بھی اجتماعی شعور اور عزیمت سے حالات کارُخ تبدیل کیا جا سکتاہے ۔

200.00
Quick View
Add to cart

ھندوستان ابتدائی مسلم‌مورخین کی نظروں میں (Hindustan)

مسلمان ساتویں صدی عیسوی سے برصغیر میں داخل ہونے لگے۔ ان میں فاتح، تاجر ، سیاح اور مبلغ ہر قسم

300.00
Quick View
Add to cart

आर एस एस  देश का सबसे बड़ा आतंकवादी संगठन (Hindi)

R.S.S.—Desh ka sabse bada Aatankwadi Sangathan एस. एम. मुशरिफ़ पूर्व आई जी पुलिस, महाराष्ट्र “इस पुस्तिका के लेखक एस एम

80.00
Quick View
Add to cart

ऑपरेशन अक्षरधाम : मंदिर पर आतंकी हमला (Hindi)

पूरी दुनिया में ही हिंसा की बड़ी घटनाओं में अधिकतर ऐसी हैं जिन पर राज्य व्यवस्था द्वारा रचित होने का शक गहराया है। लेकिन रहस्य खुलने लगे हैं।
राज्य व्यवस्था को नियंत्रित करने वाले समूह अपनी स्वभाविक नियति को कृत्रिम घटनाओं से टालने की कोशिश करते हैं। वे अक्सर ऐसी घटनाओं के ज़रिए समाज में धर्म परायण पृष्ठभूमि वाले लोगों के बीच अपने तात्कालिक ज़रूरत को पूरा करने वाला एक संदेश भेजते हैं। उनका मक़सद समाजिक जीवन का ताना बाना और इंसानियत नहीं होती हैं। लेकिन यह इंसानी फ़ितरत है कि मूल्यों व संस्कृति को सुदृढ़ करने के मक़सद से जीने वाला सामान्य जन व बौद्धिक हिस्सा उस तरह की तमाम घटनाओं का अन्वेषण करता है और रचे गए झूठों को नकारने के लिए इतिहास की ज़रूरतों को पूरा करता है।
भारत में तीसेक वर्षो के दौरान जो बड़ी हिंसक घटनाएं हुईं उनके बारे में लोक धारणा स्पष्ट है। रक्षक जब भक्षक होता है तो लोक मानस अपनी तैयारी में जुट जाता है। अक्षरधाम की घटना का अन्वेषण बेहद तथ्यात्मक और तार्किक रूप में किया गया है। पूरी दुनिया में लोगों के खि़लाफ छेड़े गए एकतरफ़ा युद्ध के इस अध्याय का यह बारीकी से प्रस्तुत विवरण भी है और लोकतांत्रिक और समानता पर आधारित शासन व्यवस्था की खोज की दीर्घकालीन ज़रूरत का दस्तावेज़ भी।
आतंकी घटनाएं ‘कैपेबिलिटी डेमोंस्ट्रेशन’ अपने अंतर्विरोधों के बावजूद सत्ता की आम सहमति और आत्मघाती दस्तों के आविष्कार की एक पैकेजिंग है। यह आम धारणा आकार ले रही है और वह भविष्य में अपने राजनीतिक रास्तों की तलाश में लग चुकी है। पंजाब में आतंकवाद के अन्वेषण ने वहां एक नए तरह के राजनीतिक विमर्श को खड़ा किया है। यह किताब मुस्लिम आतंकवाद के शीर्षक की तमाम घटनाओं के ऐसी ही पड़ताल की ज़रूरत का एक दबाव बनाती है।
अनिल चमड़िया
वरिष्ठ पत्रकार

250.00
Quick View
Add to cart

करकरे के हत्यारे कौन? भारत में आतंकवाद का असली चेहरा (Hindi)

राज्य और राज्यविहीन तत्त्वों द्वारा राजनीतिक हिंसा या आतंकवाद का एक लम्‍बा इतिहास भारत में रहा है। इस आरोप ने कि भारतीय मुसलमान आतंकवाद में लिप्त हैं, 1990 के दशक के मध्य में हिंदुत्ववादी शक्‍तियों के उभार के साथ ज़ोर पकड़ा और केंद्र में भाजपा की सत्ता के ज़माने में राज्य की विचारधारा बन गया। यहाँ तक कि “सेक्यूलर” मीडिया ने सुरक्षा एजेंसियों के स्टेनोग्राफ़र की भूमिका अपना ली और मुसलमानों के आतंकवादी होने का विचार एक स्वीकृत तथ्य बन गया | हद यह कि बहुत-से मुसलमान भी इस झूठे प्रोपेगण्डे पर विश्‍वास करने लगे। पूर्व वरिष्ठ पुलिस अधिकारी एस.एम. मुशरिफ़ ने, जिन्होंने तेलगी घोटाले का भंडाफोड़ किया था, इस प्रचार-परदे के पीछे नज़र डाली है, और इसके लिए सार्वजनिक क्षेत्र व अपने लम्बे पुलिस अनुभव से प्राप्त ज़्यादातर जानकारियों (शोध-सामग्री) का उपयोग किया है। उन्होंने कुछ चौंकाने वाले तथ्यों को उजागर किया है, और अपनी तरह का पहला उनका यह विश्‍लेषण तथाकथित “इस्लामी आतंकवाद” के पीछे वास्तविक तत्त्वों को बेनक़ाब करता है। ये वही शक्‍तियां हैं जिन्होंने महाराष्ट्र ए टी एस के प्रमुख हेमंत करकरे की हत्या की, जिसने उन्हें बेनक़ाब करने का साहस किया और अपनी हिम्मत व सत्य के लिए प्रतिबद्धता की क़ीमत अपनी जान देकर चुकाई। यह पुस्तक भारत में “इस्लामी आतंकवाद” से जोड़ी गयीं कुछ बड़ी घटनाओं पर एक कड़ी नज़र डालती है और उन्हें आधारहीन पाती है।

350.00
Quick View
Add to cart

गुजरात — पर्दे के पीछे Gujarat – Pardey Ke Peechhey (Hindi)

गोधरा रेलवे स्टेशन की दुर्घटना के बाद गुजरात के अनेक इलाक़ों में भड़कने वाले भीषण दंगे गुजरात तथा भारत के चेहरे पर कलंक हैं । इन भीषण दंगों का कारण पुलिस द्वारा क़ानून-व्यवस्था का पालन न करना था । इस पुस्तक में लेखक ने घटनास्थल पर उपस्थित एक उच्च पुलिस अधिकारी की हैसियत से दंगों और बाद में उन्हें छिपाने तथा अपराधियों को बचाने की सुसंगठित सरकारी कोशिशों का पर्दाफ़ाश किया है । दंगों के दौरान उनकी रिपोर्टें और बाद में दंगों की जाँच करने वाले जाँच आयोग के सामने उनके बयान राजनेताओं, पुलिस तथा नौकरशाहों की घिनौनी भूमिका का पर्दाफ़ाश करते हैं । उच्चतम न्यायालय द्वारा गठित विशेष जाँच दल (एस.आई.टी.) के कार्य को उन्होंने निकट से देखा और इस निष्कर्ष तक पहुँचे कि एस.आई.टी. ने अपराधियों को उनके कुकृत्यों का दण्ड दिलाने के बजाय उनको बचाने वाले वकील के तौर पर काम किया । गुजरात के दंगे और बाद की परिस्थितियों के चश्मदीद गवाह ने यह पुस्तक अपनी अन्तरात्मा के बोझ को हल्का करने के लिए लिखी है । The anti-Sikh riots in 1984 and violence in Gujarat, after killing of 59 Ram Bhaktas in Godhra Railway Station, in 2002, and subsequent subversion of Criminal Justice System in Gujarat State, had inflicted infamy on the image of Indian State and its commitment to the Rule of Law. Unlike terrorist attacks and explosions, no communal riots can prolong unless the authorities avoid implementation of Standard Operating Procedure (SOP), to control and contain mass violence and normalize public order. High Voltage mass violence was reported from 11 of 30 police administrative units of Gujarat. Significantly, volume of crime was directly proportionate to the commitment of law enforcers in police and Executive Magistracy, to implement SOP, ignoring extra-legal pressures from unauthorized quarters. The book uncovers the author s experience as a senior police officer and citizen about background, course and aftermath of 2002 communal holocaust. The author provides substantial sound evidence on planners and perpetrators of violence. Basing on his situation assessment reports, the Central Election Commission, in August 2002, had refused to accept the State Assembly Election Schedule proposed by the State Government, after premature dissolution of the Assembly. Instances of complacency of the Judicial Commission by not probing deeply into inputs on the omissions and commissions of government officials and political bureaucracy are delineated. The Special Investigation Team (SIT), constituted by the Supreme Court, had practically transformed into a team of defence lawyers of the planners, organizers and enablers of violence, by booking only foot soldiers of communal crimes, the author lamented. He throws light on the soul-less secularism of the Indian National Congress, betraying opportunistic communalism, by appeasement of minority and majority communalism simultaneously. How the government failed to practice Raj Dharma , both as per the ideals of Indian heritage and provisions of the Constitution of India is explained. The imperativeness of providing statutory frame-work to the concepts of command responsibility and accountability of supervisory cadre in the government, is projected as the vital lesson to be learnt for forestalling repetition of mass crimes in future.

250.00
Quick View
Add to cart

गोलवलकर की ‘हम या हमारी राष्ट्रीयता की परिभाषा’ —एक आलोचनात्मक समीक्षा

यह पुस्तक आरएसएस के प्रकाशनों और दस्तावेज़ों की रोशनी में गोलवलकर के जीवन और विचारों के बारे में वास्तविक सच्चाइयों को सामने लाने का एक प्रयास है। इस पुस्तक में गोलवलकर की 1939 में लिखी “वी ऑर अवर नेशनहुड डिफ़ाइंड” पुस्तक भी है जिसका हिंदी अनुवाद यहाँ प्रस्तुत है। यह पुस्तक 1947 के बाद उपलब्ध नहीं रही है।

We are witnessing a concerted attempt by the RSS to establish MS Golwalkar as the ‘prophet of a resurgent India,’ ‘a saint,’ ‘the best son of Bharat mata,’ and the ‘biggest gift to Hindu society in the 20th Century,’… This inspite of the fact that Golwalkar, throughout his life, remained committed to the concept of Hindutva which meant an inherent faith in Casteism, Racism and Imperialism. He stood for the establishment of a Hindu rashtra, or nation, where minorities like Muslims and Christians could exist only as second class citizens. This book attempts to put across actual facts about Golwalkar’s life and beliefs in the light of his original writings, publications of the RSS, documents available in its archives and many other RSS documents the writer collected over the last 35 years from different parts of the country, especially the original text of his book We or Our Nationhood Defined (1939) which is being fully reproduced in this book. It is the most important text in order to understand the RSS’ concept of Hindu state, and has not been available to the public after 1947.

295.00
Quick View
Add to cart

नंगे पाँव बालक का उदय—एक आत्मकथा Nangey paanw balak ka uday: Ek atmakatha (Hindi)

लेखक देश के प्रसिद्ध वैज्ञानिक, शिक्षा विशेषज्ञ, शिक्षा प्रबंधक, पद्मश्री प्रोफ़ेसर जलीस अहमद ख़ाँ तरीन का जन्म 6 अप्रैल 1947 को मैसूर में हुआ। उन्होंने 1967 से 2007 तक का समय मैसूर विश्वविद्यालय में शिक्षण एवं शोधकार्य में व्यतीत किया। 2001 से 2004 के दौरान कश्मीर विश्वविद्यालय के कुलपति रहे, फिर 2007 से 2013 के दौरान पांडिचेरी विश्वविद्यालय के कुलपति रहे और 2013 से 2015 के दौरान ही एस. अब्दुर्रहमान विश्वविद्यालय, चेन्नई के कुलपति रहे। वह मुस्लिम एजुकेशन सोसाइटी मैसूर के संस्थापक सचिव थे और फ़िल्हाल उसके अध्यक्ष हैं।

300.00
Quick View
Add to cart

भारत-विभाजन विरोधी मुसलमान (Hindi) Bharat-Vibhajan Virodhi Musalmaan

डॉ॰ शम्सुल इस्लाम ने भारतीय स्वतंत्रता संग्राम के इतिहास में सबसे अधिक उपेक्षित किये गए अध्याय पर क़लम उठाया है,

345.00
Quick View
Add to cart

संघी आतंकवाद Sanghi Aatankvaad (Hindi)

हमारा देश भारत अपनी गंगा-जमुनी संस्कृति एवं साम्प्रदायिक सौहार्द के लिए प्रसिद्ध रहा है, परन्तु कुछ असामाजिक तत्त्व इसकी इस विशेषता को समाप्त कर यहां के वातावरण में नफ़रत और साम्प्रदायिकता का ज़हर घोलने का प्रयास भारत-विभाजन के पहले ही से करते रहे हैं और आज उनकी ये कोशिशें अपने चरम पर हैं। प्रस्तुत पुस्तक ‘संघी आतंकवाद’ के लेखक युगल किशोर शरण शास्त्री चूँकि स्वयं भी एक लम्बे समय तक संघ-प्रचारक रह चुके हैं, इसलिए उन्होंने संघ की इस वैमनस्यपूर्ण तथा विघटनकारी मानसिकता को बहुत क़रीब से जाना और पूरी निर्भीकता के साथ, मुखर रूप से अपनी इस पुस्तक में प्रस्तुत किया है। इसके साथ ही उन्होंने इन असामाजिक तत्त्वों द्वारा इस्लाम के बारे में फैलायी जा रही ग़लतफ़हमियों को भी दूर करने का प्रयास किया है। यह पुस्तक संघी आतंकवाद की मानसिकता को समझने तथा उसके बारे में लेखक के मुखर एवं स्पष्टवादी विचारों को जानने के लिए अवश्य पढ़ी जा सकती है।

95.00
Quick View
Add to cart

પડદા પાછળનું ગુજરાત Parda Paachhalnu Gujarat (Gujarati)

આર. બી. શ્રીકુમાર ગુજરાત કૅડરના સેવાનિવૃત્ત આઈ.પી.એસ. અધિકારી છે. રાજ્યમાં જુદા જુદા ઉચ્ચ પદો પર ફરજો બજાવ્યા ઉપરાંત 9 એપ્રિલ 2002થી 18 સપ્ટેમ્બર 2002 દરમિયાન તેઓ ગુજરાતમાં ઇન્ટેજલિજન્સ વિભાગના અધિક પોલીસ મહાનિદેશક તરીકે રહી ચૂક્યા છે. આ જ કારણે તેઓએ ગુજરાતમાં ઘટેલી ઘટનાઓ અને તે પછી ઊભી થયેલી પરિસ્થિતિઓને બહુ જ નજીકથી નિહાળી અને તત્કાલિન રાજ્ય સરકારને સાથ નહીં આપવાના કારણસર તથા પંચ સમક્ષ સાચે સાચું બયાન આપવાના કારણે તેઓ સરકારના ઉગ્ર પ્રકોપનો શિકાર પણ બન્યા. જો કે અંતે સત્યનો જય થાય છે એ ઊક્તિ અનુસાર તેઓને અદાલત તરફથી ન્યાય તો મળ્યો જ!

235.00
Quick View
Add to cart